Jobs

[Jobs][pvid]

Science and Technology

[Science and Technology][pvid]

Freelancing

[Freelancing][pvid]

News

[News][pvid]

Intermediate

[Intermediate][pvid]

ترک ڈرامہ سیریل’’ارطغرل غازی‘‘اردو زبان میں آج سے ہر شب 7:55 پر پیش کی جائے گی،  ڈرامے کی قسط رات بارہبجے اور اگلے روز دن بارہ بجے نشر مکرر کے طور پر پیش کی جائے گی، پی ٹی وی


 YouTube Channel

 پاکستان ٹیلیوژن پر دینا کی سب سے بڑی ترک ڈرامہ سیریل’’ارطغرل غازی‘‘اردو زبان میں کل ( ہفتہ یکم رمضان المبارک) سے ہر شب سات بج کر پچپن منٹ پر پیش کی جائے گی۔پی ٹی وی کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈرامے کی کہانی بارہویں صدی میں مسلمانوں کی عالمی فتوحات، عظیم کارناموں اور عروج کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔
یہ ایک ایسے بہادر جنگجو کی کہانی ہے جس نے ایمان کی طاقت سے دنیا کے سب سے بڑے علاقے پر اسلام کا پرچم بلند کیا۔ موجودہ نسل کو مسلمانوں کی عظمت رفتہ سے روشناس کرانے کے لیے یہ ڈرامہ بلاشبہ ایک شاہکار ہے۔ڈرامے کی قسط رات بارہ بجے اور اگلے روز دن بارہ بجے نشر مکرر کے طور پر پیش کی جائے گی۔


 یوٹیوب پر ڈرامہ دیکھنے کے لیے نیچے لنک پر کلک کر کہ یوٹیوب چینل کو سبسکرایب کر لیں 


ترک ڈرامہ سیریل’’ارطغرل غازی‘‘اردو زبان میں آج سے ہر شب 7:55 پر پیش کی جائے گی، ڈرامے کی قسط رات بارہ بجے اور اگلے روز دن بارہ بجے نشر مکرر کے طور پر پیش کی جائے گی، پی ٹی وی

ترک ڈرامہ سیریل’’ارطغرل غازی‘‘اردو زبان میں آج سے ہر شب 7:55 پر پیش کی جائے گی،  ڈرامے کی قسط رات بارہبجے اور اگلے روز دن بارہ بجے نشر مکرر کے طور پر پیش کی جائے گی، پی ٹی وی


 YouTube Channel

 پاکستان ٹیلیوژن پر دینا کی سب سے بڑی ترک ڈرامہ سیریل’’ارطغرل غازی‘‘اردو زبان میں کل ( ہفتہ یکم رمضان المبارک) سے ہر شب سات بج کر پچپن منٹ پر پیش کی جائے گی۔پی ٹی وی کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈرامے کی کہانی بارہویں صدی میں مسلمانوں کی عالمی فتوحات، عظیم کارناموں اور عروج کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔
یہ ایک ایسے بہادر جنگجو کی کہانی ہے جس نے ایمان کی طاقت سے دنیا کے سب سے بڑے علاقے پر اسلام کا پرچم بلند کیا۔ موجودہ نسل کو مسلمانوں کی عظمت رفتہ سے روشناس کرانے کے لیے یہ ڈرامہ بلاشبہ ایک شاہکار ہے۔ڈرامے کی قسط رات بارہ بجے اور اگلے روز دن بارہ بجے نشر مکرر کے طور پر پیش کی جائے گی۔


 یوٹیوب پر ڈرامہ دیکھنے کے لیے نیچے لنک پر کلک کر کہ یوٹیوب چینل کو سبسکرایب کر لیں 


چین کے خلاف عالمی گھیرا تنگ،

ڈیجیٹل کرنسی کے اجراء سے پہلے مکّاری:

یہودی زائنسٹس کی تھپکی ملنے کے بعد مودی چائنہ کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں پہنچ گیا ھے۔ بھارت کا موقف ھے کہ کرونا بیماری چین سے آئی ھے۔ اور پچھلے اکیس دن سے بھارت کے اندر تباہی ھو رہی ھے۔ بالخصوص معیشت میں اٹھانوے ارب ڈالرز کا نقصان ھوا ھے. وہ چین سے وصول کروا کر ھمیں دلوایا جائے۔۔۔
بھارت نے بین الاقوامی کونسل آف جیورسٹ میں پٹیشن دائر کر کے موقف اپنایا ھے کہ کس طرح بھی ممکن ھو ھمیں چین سے یہ پیسہ دلوایا جائے۔ امریکہ و اسرائیل کے بعد ان کے مشترکہ بیٹے بھارت نے بھی وہی الزام لگایا کہ چین نے کینیڈا کی لیب سے کرونا وائرس لا کر ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرالوجی میں پراسیس کیا اور وہاں سے انہوں نے اس وائرس پر کام کرنے کے بعد اسکو پوری پلاننگ سے دنیا بھر میں پھیلایا ھے۔ اور دنیا بھر کی اکانومی تباہ کی۔۔۔
ادھر امریکہ کے ایک وکیل نے بھی عدالت میں پٹیشن دائر کی ھے کہ ھمیں (امریکہ کو) چین سے بیس ٹریلین ڈالرز لے کر دیے جائیں۔ چین نے وائرس پھیلا کر ھماری معیشت برباد کی ھے۔ پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ھے کہ چین نے جن جن ممالک کو قرضہ دیا ھوا ھے وہ قرضہ بھی چین سے معاف کروایا جائے۔ اصل کھیل ہی یہی ھے کہ امریکہ نے چین کا بارہ سو ارب ڈالرز قرضہ دینا ھے۔۔۔
اب امریکہ خود اور اپنے پالتو کتے بھارت سمیت تمام حلیف ممالک سے اس طرف کمپین چلوا رہا ھے۔ اور اس
کوشش میں ھے کہ یہ معاملہ پوری دنیا میں ایک ساتھ اٹھایا جائے اور پھر تمام ممالک کی جانب سے مشترکہ کیس تیار کر کے بین الاقوامی عدالت لے کر جایا جائے۔ جہاں سے یہودی زائنسٹس کی بین الاقوامی عدالت کے زریعے امریکہ بھارت اسرائیل سمیت چین کے قرض دہندہ تمام ممالک کو چین کا قرضہ واپس نہ کرنے کا فیصلہ کروایا جائے۔۔۔
یہ ایک طرح سے کھلی بدمعاشی ھے کہ چین سے پیسہ یا درآمدات قرض کی صورت میں لے کر بعد میں کرونا پھیلانے کا الزام دے کر وہ سب قرضہ ہڑپ کر لیا جائے اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے ایک نام نہاد یک طرفہ فیصلے کے زریعے قرض واپس کرنے سے انکار کر دیا جائے۔ اب صہیونی یہود کی جانب سے چین کے ساتھ یہی کرنے کی کوشش کی جا رہی ھے۔۔۔
چین کو تمام واجب الادا قرضوں سے انکار کرنے کے بعد یہ ابلیس کے بچے خود نئی ڈیجیٹل کرنسی کا اجراء کریں گے۔ جس کے نہ تو کوئی زخائر کسی دوسرے ملک کے پاس ھوں گے اور نہ ہی کوئی ریکارڈ یا کنٹرول کسی دوسرے ملک کے پاس ھو گا۔ اور چونکہ یہ یہودی اپنے تمام حلیفوں سمیت چین کو قرض واپس نہ کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی عدالت سے لے چکے ھوں گے اس لیے وہ چین کو کسی قسم کی کوئی ڈیجیٹل کرنسی بھی واپس نہیں کریں گے۔۔۔
اور دنیا بھر کی تمام معیشتیں ڈیجیٹل کرنسی اور دیگر مالیاتی امور میں ان یہود کی غلام بن کر رہ جائیں گی۔ کیونکہ یہود اپنے لیے جب جتنی مرضی ڈیجیٹل کرنسی جنریٹ کرنا چاھیں گے وہ جنریٹ کر لیں گے۔ (جیسے دنیا کو بین الاقوامی کرنسی کے طور پر ڈالر کی بادشاہت قبول کروا کر باقی دنیا کیلیے پیپر کرنسی چھاپنے کا قائدہ اتنی مالیت کا گولڈ ریزرو ھونا لازم قرار دے دیا لیکن خود بغیر گولڈ ریزروز کے بھی ڈالر چھاپ چھاپ کر ان کاغذی ٹکڑوں کے بل بوتے پر دنیا کو بےوقوف بنا رہا ھے)۔۔۔
اس فرضی یا بےوجود کمپیوٹر بیسڈ کرنسی کے زریعے دجّال کے یہ پیروکار زائنسٹ پوری دنیا کے تمام وسائل پر قابض ھو جائیں گے۔ اس کے بعد قدم بہ قدم آگے بڑھتے ھوئے پوری دنیا کی تمام دولت، تمام وسائل، تمام خوراک، معدنیات، ہر چیز کے بلا شرکت غیرے اکیلے مالک ھوں گے۔ اور جس ڈیجیٹل کرنسی سے دنیا بھر سے یہ سب کچھ خریدیں گے وہ کرنسی بھی انہی کے ہاتھوں کا کھیل ھو گی کہ جب جتنی چاھیں کمپیوٹرز میں ڈیجیٹل کرنسی بنا لیں. اور دنیا کو بےوقوف بنا کر اس علامتی بےوجود کرنسی سے دنیا کی اجناس خرید لیں۔۔۔
لہذا یہ صہیونی دجّالی اب چین سے لیا گیا قرضہ کسی بھی طرح سے سینہ زوری کر کے واپس نہ کرنے کی پلاننگ کر رہے ھیں۔ تاکہ اس کے بعد ڈیجیٹل کرنسی کے معاملے میں دنیا بھر میں بغیر کسی معاشی طاقت کی شرکت کے صرف اور صرف یہود ہی اکیلے مالک و مختار ھوں۔ اب دیکھیے چین بیچارہ اس صورتحال سے شدید تر دباؤ میں ھے کل اگر قرض واپس نہ کرنے پر عالمی ایکا ھو گیا تو چین کسی ملک سے زبردستی تو قرض واپس لینے سے رہا۔۔۔
اب مستقبل قریب میں چین لازماً روس پاکستان افغانستان ایران و ترکی سے مل کر یہود کی اس شاطرانہ چال کے خلاف کچھ بڑے اقدامات کرنے کی کوشش میں ھو گا۔ اب دیکھیے کیا ھوتا ھے۔۔۔
موجودہ حالاتِ حاضرہ کے مطابق دنیا میں چین کے خلاف ھو رہی سازشوں کو مدنظر رکھ کر، ڈیجیٹل کرنسی کے نفاز کی راہ ہموار کرنے اور آنے والی ڈیجیٹل کرنسی کو قرض واپسی کی شکل میں چین کے ہاتھ میں جانے سے بچانے کیلیے اور دنیا بھر کے تمام وسائل و معدنیات و خوراک سب کچھ ایک مسیح الدجّال کے قابو میں دینے کی پلاننگ کو دیکھتے ھوئے میری زاتی رائے ھے۔ اس رائے سے آپکا متفق ھونا لازم نہیں لیکن کڑی سے کڑی ملا کر جو نتیجہ نکلتا نظر آ رہا ھے وہ یہی ھے۔۔۔

چین کے خلاف عالمی گھیرا تنگ، ڈیجیٹل کرنسی کے اجراء سے پہلے مکّاری

چین کے خلاف عالمی گھیرا تنگ،

ڈیجیٹل کرنسی کے اجراء سے پہلے مکّاری:

یہودی زائنسٹس کی تھپکی ملنے کے بعد مودی چائنہ کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں پہنچ گیا ھے۔ بھارت کا موقف ھے کہ کرونا بیماری چین سے آئی ھے۔ اور پچھلے اکیس دن سے بھارت کے اندر تباہی ھو رہی ھے۔ بالخصوص معیشت میں اٹھانوے ارب ڈالرز کا نقصان ھوا ھے. وہ چین سے وصول کروا کر ھمیں دلوایا جائے۔۔۔
بھارت نے بین الاقوامی کونسل آف جیورسٹ میں پٹیشن دائر کر کے موقف اپنایا ھے کہ کس طرح بھی ممکن ھو ھمیں چین سے یہ پیسہ دلوایا جائے۔ امریکہ و اسرائیل کے بعد ان کے مشترکہ بیٹے بھارت نے بھی وہی الزام لگایا کہ چین نے کینیڈا کی لیب سے کرونا وائرس لا کر ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرالوجی میں پراسیس کیا اور وہاں سے انہوں نے اس وائرس پر کام کرنے کے بعد اسکو پوری پلاننگ سے دنیا بھر میں پھیلایا ھے۔ اور دنیا بھر کی اکانومی تباہ کی۔۔۔
ادھر امریکہ کے ایک وکیل نے بھی عدالت میں پٹیشن دائر کی ھے کہ ھمیں (امریکہ کو) چین سے بیس ٹریلین ڈالرز لے کر دیے جائیں۔ چین نے وائرس پھیلا کر ھماری معیشت برباد کی ھے۔ پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ھے کہ چین نے جن جن ممالک کو قرضہ دیا ھوا ھے وہ قرضہ بھی چین سے معاف کروایا جائے۔ اصل کھیل ہی یہی ھے کہ امریکہ نے چین کا بارہ سو ارب ڈالرز قرضہ دینا ھے۔۔۔
اب امریکہ خود اور اپنے پالتو کتے بھارت سمیت تمام حلیف ممالک سے اس طرف کمپین چلوا رہا ھے۔ اور اس
کوشش میں ھے کہ یہ معاملہ پوری دنیا میں ایک ساتھ اٹھایا جائے اور پھر تمام ممالک کی جانب سے مشترکہ کیس تیار کر کے بین الاقوامی عدالت لے کر جایا جائے۔ جہاں سے یہودی زائنسٹس کی بین الاقوامی عدالت کے زریعے امریکہ بھارت اسرائیل سمیت چین کے قرض دہندہ تمام ممالک کو چین کا قرضہ واپس نہ کرنے کا فیصلہ کروایا جائے۔۔۔
یہ ایک طرح سے کھلی بدمعاشی ھے کہ چین سے پیسہ یا درآمدات قرض کی صورت میں لے کر بعد میں کرونا پھیلانے کا الزام دے کر وہ سب قرضہ ہڑپ کر لیا جائے اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے ایک نام نہاد یک طرفہ فیصلے کے زریعے قرض واپس کرنے سے انکار کر دیا جائے۔ اب صہیونی یہود کی جانب سے چین کے ساتھ یہی کرنے کی کوشش کی جا رہی ھے۔۔۔
چین کو تمام واجب الادا قرضوں سے انکار کرنے کے بعد یہ ابلیس کے بچے خود نئی ڈیجیٹل کرنسی کا اجراء کریں گے۔ جس کے نہ تو کوئی زخائر کسی دوسرے ملک کے پاس ھوں گے اور نہ ہی کوئی ریکارڈ یا کنٹرول کسی دوسرے ملک کے پاس ھو گا۔ اور چونکہ یہ یہودی اپنے تمام حلیفوں سمیت چین کو قرض واپس نہ کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی عدالت سے لے چکے ھوں گے اس لیے وہ چین کو کسی قسم کی کوئی ڈیجیٹل کرنسی بھی واپس نہیں کریں گے۔۔۔
اور دنیا بھر کی تمام معیشتیں ڈیجیٹل کرنسی اور دیگر مالیاتی امور میں ان یہود کی غلام بن کر رہ جائیں گی۔ کیونکہ یہود اپنے لیے جب جتنی مرضی ڈیجیٹل کرنسی جنریٹ کرنا چاھیں گے وہ جنریٹ کر لیں گے۔ (جیسے دنیا کو بین الاقوامی کرنسی کے طور پر ڈالر کی بادشاہت قبول کروا کر باقی دنیا کیلیے پیپر کرنسی چھاپنے کا قائدہ اتنی مالیت کا گولڈ ریزرو ھونا لازم قرار دے دیا لیکن خود بغیر گولڈ ریزروز کے بھی ڈالر چھاپ چھاپ کر ان کاغذی ٹکڑوں کے بل بوتے پر دنیا کو بےوقوف بنا رہا ھے)۔۔۔
اس فرضی یا بےوجود کمپیوٹر بیسڈ کرنسی کے زریعے دجّال کے یہ پیروکار زائنسٹ پوری دنیا کے تمام وسائل پر قابض ھو جائیں گے۔ اس کے بعد قدم بہ قدم آگے بڑھتے ھوئے پوری دنیا کی تمام دولت، تمام وسائل، تمام خوراک، معدنیات، ہر چیز کے بلا شرکت غیرے اکیلے مالک ھوں گے۔ اور جس ڈیجیٹل کرنسی سے دنیا بھر سے یہ سب کچھ خریدیں گے وہ کرنسی بھی انہی کے ہاتھوں کا کھیل ھو گی کہ جب جتنی چاھیں کمپیوٹرز میں ڈیجیٹل کرنسی بنا لیں. اور دنیا کو بےوقوف بنا کر اس علامتی بےوجود کرنسی سے دنیا کی اجناس خرید لیں۔۔۔
لہذا یہ صہیونی دجّالی اب چین سے لیا گیا قرضہ کسی بھی طرح سے سینہ زوری کر کے واپس نہ کرنے کی پلاننگ کر رہے ھیں۔ تاکہ اس کے بعد ڈیجیٹل کرنسی کے معاملے میں دنیا بھر میں بغیر کسی معاشی طاقت کی شرکت کے صرف اور صرف یہود ہی اکیلے مالک و مختار ھوں۔ اب دیکھیے چین بیچارہ اس صورتحال سے شدید تر دباؤ میں ھے کل اگر قرض واپس نہ کرنے پر عالمی ایکا ھو گیا تو چین کسی ملک سے زبردستی تو قرض واپس لینے سے رہا۔۔۔
اب مستقبل قریب میں چین لازماً روس پاکستان افغانستان ایران و ترکی سے مل کر یہود کی اس شاطرانہ چال کے خلاف کچھ بڑے اقدامات کرنے کی کوشش میں ھو گا۔ اب دیکھیے کیا ھوتا ھے۔۔۔
موجودہ حالاتِ حاضرہ کے مطابق دنیا میں چین کے خلاف ھو رہی سازشوں کو مدنظر رکھ کر، ڈیجیٹل کرنسی کے نفاز کی راہ ہموار کرنے اور آنے والی ڈیجیٹل کرنسی کو قرض واپسی کی شکل میں چین کے ہاتھ میں جانے سے بچانے کیلیے اور دنیا بھر کے تمام وسائل و معدنیات و خوراک سب کچھ ایک مسیح الدجّال کے قابو میں دینے کی پلاننگ کو دیکھتے ھوئے میری زاتی رائے ھے۔ اس رائے سے آپکا متفق ھونا لازم نہیں لیکن کڑی سے کڑی ملا کر جو نتیجہ نکلتا نظر آ رہا ھے وہ یہی ھے۔۔۔

کیا ہم وسائل سےیہ جنگ لڑ سکتےہیں؟،وزیراعظم عمران خان

‏ہمارےپاس وسائل تونہیں ہے،پرسب سےبڑی چیزہمارےپاس ایمان ہے، وزیراعظم
‏ایمان ہماری سب سےبڑی طاقت ہے، وزیراعظم عمران خان
‏ہماری دوسری بڑی طاقت نوجوان آبادی ہے،وزیراعظم عمران خان
‏ان دو طاقتوں کاہم نےاستعمال کرناہے، کوروناکی جنگ میں کامیابی حاصل کرنی ہے،وزیراعظم
‏وزیراعظم آفس میں ایک سیل ہےجوپوراڈیٹادیکھ رہاہے،وزیراعظم عمران خان
‏کوروناریلیف ٹائیگرفورس کااعلان کررہاہوں،وزیراعظم عمران خان
‏ہماری ٹائیگر فورسزلاک ڈاؤن والےعلاقوں میں کھانا،ضرورت کی بنیادی چیزیں پہنچائیں گے،وزیراعظم
‏کوروناوائرس بوڑھوں اوربیماروں کیلئےزیادہ خطرناک ہے،وزیراعظم عمران خان
‏فورس میں ینگ ڈاکٹرز،نرسز،ڈرائیورسزاورکسی بھی شعبےسےتعلق رکھنےوالےشامل ہوسکتےہیں،وزیراعظم
‏کوروناریلیف اکاؤنٹ کا اعلان کررہاہوں،وزیراعظم عمران خان
‏اس اکاؤنٹ میں فنڈزکاآڈٹ ہوگااورمکمل تفصیلات فراہم کی جائیں گی،وزیراعظم
‏امریکاکاریلیف پیکج 2ہزارارب ڈالرہے،وزیراعظم عمران خان
‏اس ملک میں اناج کی کوئی کمی نہیں ہے،وزیراعظم عمران خان
‏ذخیرہ اندوزی کرنےوالوں کوکہتاہوں انکی وجہ سےلوگ بھوک سےمریں گے،وزیراعظم
‏جہاں بھی لوگ جمع ہوتےہیں وہاں کوروناکےپھیلنےکاخدشہ ہے،وزیراعظم عمران خان
‏قوم سےکہتاہوں یہ جنگ ہم مل کرلڑیں گے، وزیراعظم عمران خان
‏ریلیف فنڈکہاں استعمال ہورہاہےاس کی مکمل تفیصل قوم کو بتائی جائےگی،وزیراعظم
‏ہم خود اپناذہن استعمال کریں اورسماجی دوری اختیارکریں،وزیراعظم عمران خان
‏لوگوں کی بھوک پرپیسےبنانےوالوں کےخلاف سخت ایکشن ہوگا،وزیراعظم
‏ذخیرہ اندوزوں کوعبرتناک سزا دی جائےگی، وزیراعظم عمران خان
‏کمزورطبقوں کاجب تک دھیان نہیں رکھیں گےجنگ نہیں جیت سکتے،وزیراعظم
‏کوروناوائرس بزرگوں اوربیمار لوگوں کےلیےخطرہ ہے،وزیراعظم عمران خان
‏جو ملازمین کوبیروزگارنہیں کرینگےان کوہم سستےقرضے دینگے،وزیراعظم
‏جو اپنےورکرزکوبیروزگارنہیں کرینگےان کوہم سستےقرضے دینگے،وزیراعظم

کیا ہم وسائل سےیہ جنگ لڑ سکتےہیں؟،وزیراعظم عمران خان

کیا ہم وسائل سےیہ جنگ لڑ سکتےہیں؟،وزیراعظم عمران خان

‏ہمارےپاس وسائل تونہیں ہے،پرسب سےبڑی چیزہمارےپاس ایمان ہے، وزیراعظم
‏ایمان ہماری سب سےبڑی طاقت ہے، وزیراعظم عمران خان
‏ہماری دوسری بڑی طاقت نوجوان آبادی ہے،وزیراعظم عمران خان
‏ان دو طاقتوں کاہم نےاستعمال کرناہے، کوروناکی جنگ میں کامیابی حاصل کرنی ہے،وزیراعظم
‏وزیراعظم آفس میں ایک سیل ہےجوپوراڈیٹادیکھ رہاہے،وزیراعظم عمران خان
‏کوروناریلیف ٹائیگرفورس کااعلان کررہاہوں،وزیراعظم عمران خان
‏ہماری ٹائیگر فورسزلاک ڈاؤن والےعلاقوں میں کھانا،ضرورت کی بنیادی چیزیں پہنچائیں گے،وزیراعظم
‏کوروناوائرس بوڑھوں اوربیماروں کیلئےزیادہ خطرناک ہے،وزیراعظم عمران خان
‏فورس میں ینگ ڈاکٹرز،نرسز،ڈرائیورسزاورکسی بھی شعبےسےتعلق رکھنےوالےشامل ہوسکتےہیں،وزیراعظم
‏کوروناریلیف اکاؤنٹ کا اعلان کررہاہوں،وزیراعظم عمران خان
‏اس اکاؤنٹ میں فنڈزکاآڈٹ ہوگااورمکمل تفصیلات فراہم کی جائیں گی،وزیراعظم
‏امریکاکاریلیف پیکج 2ہزارارب ڈالرہے،وزیراعظم عمران خان
‏اس ملک میں اناج کی کوئی کمی نہیں ہے،وزیراعظم عمران خان
‏ذخیرہ اندوزی کرنےوالوں کوکہتاہوں انکی وجہ سےلوگ بھوک سےمریں گے،وزیراعظم
‏جہاں بھی لوگ جمع ہوتےہیں وہاں کوروناکےپھیلنےکاخدشہ ہے،وزیراعظم عمران خان
‏قوم سےکہتاہوں یہ جنگ ہم مل کرلڑیں گے، وزیراعظم عمران خان
‏ریلیف فنڈکہاں استعمال ہورہاہےاس کی مکمل تفیصل قوم کو بتائی جائےگی،وزیراعظم
‏ہم خود اپناذہن استعمال کریں اورسماجی دوری اختیارکریں،وزیراعظم عمران خان
‏لوگوں کی بھوک پرپیسےبنانےوالوں کےخلاف سخت ایکشن ہوگا،وزیراعظم
‏ذخیرہ اندوزوں کوعبرتناک سزا دی جائےگی، وزیراعظم عمران خان
‏کمزورطبقوں کاجب تک دھیان نہیں رکھیں گےجنگ نہیں جیت سکتے،وزیراعظم
‏کوروناوائرس بزرگوں اوربیمار لوگوں کےلیےخطرہ ہے،وزیراعظم عمران خان
‏جو ملازمین کوبیروزگارنہیں کرینگےان کوہم سستےقرضے دینگے،وزیراعظم
‏جو اپنےورکرزکوبیروزگارنہیں کرینگےان کوہم سستےقرضے دینگے،وزیراعظم


برمودا ٹرائی اینگل کے اصل حقائق اور دجال کا تعل


آپ نے برمودا ٹرائی اینگل کے متعلق تو کافی سنا ہوگا لیکن یہ بات کہ یہ ٹرائی اینگل پانی کی سطح پر بنی ہے ، اور یہ کیوں منظر عام پر لائی گئی،، اس کے متعلق شائد بہت کم کسی نے بات کی ہو۔۔ ان شاءاللہ آج کی نشست میں آپ کو کچھ اس کے بارے میں بتایا جائے گا۔
برموادا ٹرائی اینگل بحر اوقیانوس میں واقع ہے اور اس کے متعلق بہت سی کہانیاں اور قصے بنائے گئے ہیں۔ 1945 میں جب فلورایڈا سے اڑنے والے پانچ جہاز کہیں غائب ہوئے تب یہ ٹرائی اینگل منظر عام پر لائی گئی۔ ان جہازوں کو بہت تلاش کیا گیا مگر کہیں سراغ نہ مل سکا۔ آخر جب ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے رہے جن میں ہوائی جہاز ، کشتیاں فلوریڈا اور میامی کے سمندر سے گزرتے ہوئے کہیں غائب ہو جاتیں تو ان واقعات کا رخ برمودا ٹرائی اینگل کی طرف موڑا جانے لگا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسی مصنوعی اور خود ساختہ تکون وجود میں لائی گئی جو انسان اور انسانیت کے لئے ایک راز رہ سکے اور جب وقت کی ضرورت ہو تو اس جگہ سے کچھ ظاہر کر کے لوگوں کے اذہان پر قابو پایا جاسکے اور یہ بتایا جاسکے کہ ہمارا نجات دہندہ ، دنیا کو بچانے والا ، اور یہودیوں اور عیسائیوں کا مالک (یعنی دجال) آگیا ہے۔
آپ حیران ہوئے ہوں گے کہ میں اپنی بات کا رخ یکدم دجال کی طرف کیوں موڑ رہا ہوں۔ ان شاءاللہ اس کے متعلق واضح دلائل دیئے جائیں گے کہ اس تکون (bermuda Triangle) میں اور دجال میں کیا مماثلت پائی جاتی ہے۔
بحر الکاہل کے شیطانی سمندر (Devil Sea) اور بحر اوقیانوس کے برمودا ٹرائی اینگل میں کئی خصوصیات کے اعتبار سے مماثلت پائی جاتی ہے جو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ان دونوں میں کوئی ایسا تعلق ضرور ہے جو دنیا کی نظر سے پوشیدہ ہے اور یہ تعلق لازماً شیطانی ہے۔ رحمانی یا انسانی نہیں (کیونکہ جیسے پہلے عرض کیا کہ یہاں بہت سے حادثات رونما ہوچکے ہیں) مثلاً
1۔ دنیا میں یہی دو جگہیں ایسی ہیں جہاں قطب نما کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ دونوں میں متعدد ہوائی اور بحری جہاز غائب ہوچکے ہیں۔ انتہائی تعجب خیز بات یہ ہے کہ ان دونوں جگہوں کے درمیان ایسے جہازوں کو سفر کرتے دیکھا گیا جو سالوں پہلے غائب ہوچکے تھے۔
2۔ دونوں کے اندر ایسی مقناطیسی کشش یا برقی لہریں موجود ہیں جو بڑے بڑے جہازوں کو توڑ مروڑ کر نگل جاتی ہیں۔
3۔ دونوں کے درمیان اڑن طشتریاں اڑتی دیکھی گئی ہیں جنہیں امریکی میڈیا والے خلائی مخلوق کی سواری کہتے ہیں۔ امریکا کا یہودی میڈیا ان کے متعلق سامنے آنے والے حقائق چھپاتا رہتا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کی جراءت کی اور ان حقائق کو منظر عام پر لائے تو انہیں قتل کردیا گیا۔ جیسے ڈاکٹر موریس جیسوپ اور ڈاکٹر جیمس ای میکڈونلڈ کو صرف اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ یہ دونوں اڑن طشتریوں کو کھوجتے ہوئے اصل حقائق جان گئے تھے۔
4۔ دونوں جگہوں کو خواص و عوام قدیم زمانے سے شیطان سے منسوب کرتے ہیں اور یہاں ایسی قوتوں کی کارستانیوں کے قائل ہیں جو انسانیت کی خیر خواہ نہیں۔ لیکن ان کے گرد اسرار کے پردے آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ وہ میڈیا جو بال کی کھال اور کھال کی کھال اتاردیتا ہے وہ اس راز کو کیوں چھپا رہا ہے ؟؟
اب ان باتوں کی حقیقت سوائے مخبر صادق ﷺ کے سوا کس سے پوچھی جائے ؟؟
آئیے اب ان کی زبانی ان باتوں کی حقیقت جانتے ہیں جنھیں اس وقت کے کفار و مشرکین بھی صادق الامین کہا کرتے تھے۔
ایک دن حضور ﷺ نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ۔۔ تمیم داری پہلے عیسائی تھا ۔ وہ آیا ۔ اس نے بیعت کی اور اسلام میں داخل ہوگیا۔ اس نے مجھے ایسا واقعہ سنایا جو ان باتوں سے تعلق رکھتا ہے جو میں تمھیں دجال کے بارے میں بتایا کرتا تھا۔۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ لخم اور جزام قبیلہ کے تیس آدمیوں کے ہمراہ سمندر کے سفر پر بحری جہاز میں روانہ ہوا۔ سمندر کی لہریں (طوفان کے سبب) انھیں مہینہ بھر تک ادھر اُدھر دھکیلتی رہیں۔ یہاں تک کہ وہ ایک جزیرے میں پہنچ گئے۔ اس وقت سورج غروب ہورہا تھا۔ وہ ایک چھوٹی کشی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے۔ جب وہ جزیرے میں داخل ہوئے تو ان کو ایک جانور ملا جس کے جسم پر بہت سے بال تھے۔ بالوں کی کثرت کی وجہ سے انہیں اس کے آگے پیچھے کا پتہ نہیں چلا رہا تھا۔
انہوں نے کہا: تیرا ناس ہو تو کیا چیز ہے ؟
اُس بالوں والے جانور نے کہا: میں جساسہ ہوں۔
انہوں نے پوچھا: یہ جساسہ کیا چیز ہے ؟
جواب ملا: اے لوگو! خانقاہ (مراد گھر) میں موجود اس آدمی کی طرف جاؤ۔ وہ تمہاری خبریں سننے کا بڑے تجسس سے انتظار کررہا ہے۔ انہیں خوف ہوا کہ کہیں یہ جانور شیطان نہ ہو اور کہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ پھر ہم تیزی سے چلے اور خانقاہ میں داخل ہوگئے۔ وہاں ہم نے بھاری بھر کم قد کاٹھ کا ایک آدمی دیکھا جس کے گھٹنوں سے ٹخنوں تک بندھی ایک لوہے کی زنجیر تھی اور اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔
ہم نے پوچھا: تیرا ناس ہو تو کیا چیز ہے ؟
اس نے کہا: میرا پتہ تمہیں جلد چل جائے گا۔ یہ بتاؤ کہ تم کون ہو ؟
ہم نے کہا: ہم عرب سے ہیں (پھر ہم نے سارے سفر اور طوفان اور جساسہ کے بارے میں بتایا کہ اس نے ہمیں تیری طرف آنے کا کہا)۔
اس نے کہا: مجھے بیسان کے نخلستان (باغ) کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس باغ کے درختوں پر پھل آتے ہیں یا نہیں؟
ہم نے کہا: ہاں۔۔ پھل آتے ہیں۔
اس نے کہا: مجھے طبریہ کی جھیل کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: کیا اس میں پانی موجود ہے ؟
ہم نے کہا: ہاں اس میں بہت پانی ہے۔
وہ بولا: اس کا پانی بہت جلد ختم ہو جائے گا۔۔ پھر اس نے کہا: مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: کیا اس میں پانی ہے اور کیا لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں ؟
ہم نے کہا: ہاں اس میں بہت پانی ہے اور لوگ اس سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔
اس نے پوچھا: مجھے محمد(ﷺ) کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ وہ مکہ سے نکل کر یثرب (مدینہ) آ گئے ہیں۔
اس نے پوچھا: کہ کیا عربوں نے اس کے ساتھ جنگ کی ؟
ہم نے کہا: ہاں۔
اُس نے پوچھا: کہ اس (حضرت محمد ﷺ) نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟
ہم نے کہا: کہ وہ اردگر د کے عربوں پر غالب آچکے ہیں اور انھوں نے اُن کی اطاعت قبول کرلی ہے۔
اس پر اُس نے کہا: کیا واقعی ایسا ہوچکا ہے ؟
ہم نے کہا: ہاں۔۔
پھر اُس نے کہا: ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اس کی اطاعت قبول کرلیں۔۔
اب میں تمھیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں دجال ہوں۔ مجھے عنقریب خروج کی اجازت مل جائے گی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ
1۔ دجال پیدا ہوچکا تھا اور اب وہ اپنی رہائی کا منتظر ہے۔
2۔ اس کی رہنے کی جگہ ایک بے آباد جزیرہ ہے۔
3۔ اس کے کارندے اسے لمحہ بہ لمحہ دنیا اور انسانوں سے آگاہ کرتے ہیں۔
4۔ اس کو غیر معمولی طاقتیں دی جائیں گی۔
اب سوال یہ ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل کو ہی اس کا اصل مقام کہا جائے ، جہاں پر کوئی جانے کی جراءت کرے تو اس کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ؟؟
(یہ واقعہ سنانے کے بعد) حضور ﷺ نے اپنا عصاء مبارک منبر پر مار کر فرمایا، یہ ہے طیبہ۔ یہ ہے طیبہ (یعنی مدینہ منورہ) میں تم کو یہی بتایا کرتا تھا۔ جان لو کہ دجال نہ شام کے سمندر میں ہے اور نہ ہی یمن کے سمندر میں۔ نہیں وہ مشرق میں ہے۔۔ (اور حضور ﷺ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ فرمایا)
(صحیح مسلم: حدیث 7208)
اب جزیرۃ العرب سے مشرق کی جانب دیکھا جائے تو دو جگہیں ہی ایسی ہیں جنہیں مغرب کے عیسائی بھی شیطانی سمندر، شیطانی جزیرے یا جہنم کا دروازہ مانتے ہیں۔۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں کا آخری سرا امریکہ سے جا ملتا ہے۔
مشرق بعید میں بحر الکاہل کے غیر آباد اور ویران جزائر آتے ہیں۔ ان کے اردگرد کے خوفناک پانیوں کا نام ہی شیطانی سمندر (Devil Sea) رکھ دیا گیا ہے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہ شیطانی سمندر کا نام مغرب اور خصوصاً عیسائیوں نے کیوں دیا ؟؟ اگر مسلمان یہ نام رکھتے تو بات سمجھ میں آنا آسان بھی تھی۔۔ خیر یہ ابھی ہمارا موضوع نہیں۔۔ فی الحال ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی برمودا ٹرائی اینگل کا تعلق دجال سے ہے ؟؟
حدیث کے الفاظ دوبارہ پڑھئے۔۔ (دجال مشرق میں ہے) ۔۔ زمین چونکہ گول ہے اس لئے اگر مبہم طور پر ہم مشرق کی طرف اشارہ کریں تو وہ اس کی گولائی کی وجہ سے مغرب (بحر الکاہل) تک پہنچے گا۔۔ مگر یہ ایک مبہم تاویل ہے۔ اس سے آگے مضبوط تاویل مصری محقق عیسی داؤد نے اپنی کتاب مثلث برمودا میں کی ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ پہلے دجال بحر الکاہل کے ان بے آباد اور ویران جزائر میں تھا اور حضور ﷺ کے وصال تک وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ مگر ختم المرسلین ﷺ کے وصال کے بعد اسکی بیڑیاں ٹوٹ گئیں اور وہ آزاد ہوگیا ۔۔ مگر اسے خروج کی اجازت نہیں تھی لہٰذا وہ شیطانی سمندر (Devil Sea) سے شیطانی تکون (bermuda Triangle) تک رابطے میں ہے۔ جس کے قریب شیطانی تہذیب پروان چڑھ کر نکتہ عروج کو پہنچنے ہی والی ہے۔
دوستو! ویسے تو قرب قیامت میں دجال کے منظر عام پر آ جانے پر کافی نشانیاں ہیں جو ان شاءاللہ آپ ہمارے اہم ترین مضمون سیریز (دجال کون ہوگا) کے اگلے حصوں میں پڑھ سکیں گے۔۔ لیکن جہاں تک صحیح مسلم کی اس حدیث میں موجود (دجال کے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے کیے جانے والے تین اہم اور بنیادی سوالات کا تعلق ہے) تو وہ سوالات دجال نے اسی لیے کیے تھے کیونکہ اسے پتہ تھا جب یہ تین نشانیاں بھی پوری ہو جائیں گی تو اسے دنیا کے سامنے آنے کی (یعنی خروج کی) مکمل اجازت مل جائیگی۔۔
سوال نمبر ایک میں بیسان کے نخلستان کا پوچھا گیا تھا اور اس نخلستان پر موجود درختوں کے پھلوں (کھجوروں) کا ذکر کیا گیا تھا۔۔ بیسان دراصل فلسطین کا علاقہ ہے جہاں دجالی ریاست اسرائیل کا قبضہ ہے۔۔ اور اب وہاں کوئی پھل پیدا نہیں ہوتا اور یوں دجال کے سامنے آنے کی یہ بہت اہم نشانی اور علامت پوری ہو چکی ہے۔
سوال نمبر دو میں طبریہ کی جھیل کا پوچھا گیا تھا۔۔ جہاں تک بات ہے بحیرہ طبریہ کی تو اس پر بھی اسرائیل کا ہی قبضہ ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا پانی بھی بہت تیزی سے خشک ہوتا جا رہا ہے۔۔ جس طرح پاکستان میں مشہور ترین دریائوں کا پانی انڈیا کی دشمنی اور چالاکی سے سوکھ رہا ہے اور کم ہو رہا ہے،، طبریہ کا پانی بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔۔ بیشک آپ انٹرنیٹ پر سرچ کر لیں اور موجودہ حالات کی روشنی میں دیکھ لیں۔۔ یہ بات واضح ہو جائے گی کہ دجال کے دوسرے سوال والی نشانی بھی مکمل ہو چکی ہے۔
سوال نمبر تین میں زغر کے چشمہ کا پوچھا گیا تھا۔۔ زغر حضرت لوط علیہ السلام کی صاحبزادی کا نام ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی دو صاحبزادیاں تھیں۔ ربہ اور زغر ۔۔ بڑی صاحبزادی (ربہ) کو وفات کے بعد جہاں دفن کیا گیا تو قریب ہی ایک چشمہ تھا جو انکے نام سے منسوب ہو کر مشہور ہوا۔۔ اسی طرح چھوٹی صاحبزادی (زغر) کی وفات کے بعد انکی تدفین بھی ایک چشمہ کے قریب ہوئی اور وہ چشمہ زغر کے چشمے کے نام سے مشہور ہو گیا۔۔ دجال کی تفتیش اور تجسس کے عین مطابق یہ تیسری جگہ بھی دجالی ریاست اسرائیل میں ہی واقع ہے۔۔ اور اس کا پانی بھی پوری طرح خشک ہوتے ہی دجال کو نکلنے کی اجازت مل جائے گی۔
ویسے بھی ایک دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دجال کسی بات پر غضبناک (انتہائی غصے میں) نکلے گا اور منظر عام پر آ جائے گا۔۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ وقت اور مستقبل قریب میں جہاں یہ پانی خشک ہوتا رہے گا تو اللہ پاک کی طرف سے کچھ ایسے اسباب اور حالات و واقعات ضرور رونما ہونگے جس پر دجال کو سخت تشویش اور غصہ ہوگا اور وہ خروج کر جائے گا اور سامنے آ جائے گا۔۔ اب وہ ایسی کیا بات یا باتیں ہونگی،، واقعات ہونگے،، یہ سب غیب کی باتیں ہیں لیکن اتنا ضرور سمجھ آتا ہے کہ وہ دجالی ریاست اسرائیل،، دجالی چمچوں یعنی صیہونیوں اور یہودیوں ،، دجال پرست عیسائیوں ،، دیگر غیر مسلم مذاہب کے دجالی چیلوں اور نام نہاد مسلمانوں کے خلاف ہی کچھ ہوگا تبھی وہ اتنا غصے میں آ جائے گا۔۔ اللہ پاک اس عظیم ترین فتنے سے ہمیں اپنی امان میں رکھیں۔۔ واقعی بہت خوش نصیب ہونگے وہ مسلمان جو موجودہ حالات میں ایمان کی ہی حالت میں دنیا سے جائیں گے۔۔ نہیں تو فتنوں کے دور میں ایمان سلامت رہنا کیا آسان ہے ؟؟؟ اللہ پاک ہمیں صحیح راہ پر قائم رکھیں اور خاتمہ بالخیر فرمائیں۔۔ آمین
آپ نے برمودا ٹرائی اینگل کے حقائق جانے اور دجال کے متعلق پڑھا کہ صحیح احادیث کی روشنی میں وہ کون سی علامات ہیں جو دجال کے ظاہر ہونے سے پہلے رونما ہوں گی۔۔ ان میں سے بہت سی ظاہر ہوچکی ہیں۔ اگر ہوش مندی سے دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب دجال کے خروج کا زمانہ زیادہ دور نہیں۔۔ اس لئے اس کے فتنے سے بچنے کے لئے ہمیں اپنی ایمانی قوت کو حاصل کرنا ہوگا۔ یہی وہ واحد حل ہے جس کے ذریعے باطل اور اہل باطل کو ہر محاذ پر شکست دی جاسکتی ہے۔
دجالی قوت مادیت پرستی کی وجہ سے ہوگی۔ اور کافر مادیت پرستی ہی کو تمام دنیا میں پھیلا رہے ہیں۔۔ جبکہ دجال کی اس مادیت پرستی کے مقابلے میں اہل ایمان کو روحانی ترقی حاصل ہوگی۔ اسی قوت کے ذریعے مادیت پرستوں کا زعم باطل ملیا میٹ ہوتے آج کے دور میں بھی ہمیں اللہ پاک نے دکھا دیا۔۔ اور 47 ملکوں کی فوج ایک طرف اور نہتے مجاہد دوسری طرف۔ پھر بھی کافر ان کا بال بیکا نہ کرسکے۔۔ یہ روحانی ترقی کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے معمولات کی حفاظت کریں اور اپنے اوقات میں سے کچھ وقت خالصتاً اللہ پاک کی عبادت کے لئے صرف کریں۔۔ اللہ پاک ہم سب کو دجال کے فتنے سے محفوظ رکھیں اور ہمیں ہمارے ایمان کو مضبوط کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔۔ آمین یا رب العالمین۔


برمودا ٹرائی اینگل کے اصل حقائق اور دجال کا تعلق


برمودا ٹرائی اینگل کے اصل حقائق اور دجال کا تعل


آپ نے برمودا ٹرائی اینگل کے متعلق تو کافی سنا ہوگا لیکن یہ بات کہ یہ ٹرائی اینگل پانی کی سطح پر بنی ہے ، اور یہ کیوں منظر عام پر لائی گئی،، اس کے متعلق شائد بہت کم کسی نے بات کی ہو۔۔ ان شاءاللہ آج کی نشست میں آپ کو کچھ اس کے بارے میں بتایا جائے گا۔
برموادا ٹرائی اینگل بحر اوقیانوس میں واقع ہے اور اس کے متعلق بہت سی کہانیاں اور قصے بنائے گئے ہیں۔ 1945 میں جب فلورایڈا سے اڑنے والے پانچ جہاز کہیں غائب ہوئے تب یہ ٹرائی اینگل منظر عام پر لائی گئی۔ ان جہازوں کو بہت تلاش کیا گیا مگر کہیں سراغ نہ مل سکا۔ آخر جب ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے رہے جن میں ہوائی جہاز ، کشتیاں فلوریڈا اور میامی کے سمندر سے گزرتے ہوئے کہیں غائب ہو جاتیں تو ان واقعات کا رخ برمودا ٹرائی اینگل کی طرف موڑا جانے لگا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسی مصنوعی اور خود ساختہ تکون وجود میں لائی گئی جو انسان اور انسانیت کے لئے ایک راز رہ سکے اور جب وقت کی ضرورت ہو تو اس جگہ سے کچھ ظاہر کر کے لوگوں کے اذہان پر قابو پایا جاسکے اور یہ بتایا جاسکے کہ ہمارا نجات دہندہ ، دنیا کو بچانے والا ، اور یہودیوں اور عیسائیوں کا مالک (یعنی دجال) آگیا ہے۔
آپ حیران ہوئے ہوں گے کہ میں اپنی بات کا رخ یکدم دجال کی طرف کیوں موڑ رہا ہوں۔ ان شاءاللہ اس کے متعلق واضح دلائل دیئے جائیں گے کہ اس تکون (bermuda Triangle) میں اور دجال میں کیا مماثلت پائی جاتی ہے۔
بحر الکاہل کے شیطانی سمندر (Devil Sea) اور بحر اوقیانوس کے برمودا ٹرائی اینگل میں کئی خصوصیات کے اعتبار سے مماثلت پائی جاتی ہے جو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ان دونوں میں کوئی ایسا تعلق ضرور ہے جو دنیا کی نظر سے پوشیدہ ہے اور یہ تعلق لازماً شیطانی ہے۔ رحمانی یا انسانی نہیں (کیونکہ جیسے پہلے عرض کیا کہ یہاں بہت سے حادثات رونما ہوچکے ہیں) مثلاً
1۔ دنیا میں یہی دو جگہیں ایسی ہیں جہاں قطب نما کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ دونوں میں متعدد ہوائی اور بحری جہاز غائب ہوچکے ہیں۔ انتہائی تعجب خیز بات یہ ہے کہ ان دونوں جگہوں کے درمیان ایسے جہازوں کو سفر کرتے دیکھا گیا جو سالوں پہلے غائب ہوچکے تھے۔
2۔ دونوں کے اندر ایسی مقناطیسی کشش یا برقی لہریں موجود ہیں جو بڑے بڑے جہازوں کو توڑ مروڑ کر نگل جاتی ہیں۔
3۔ دونوں کے درمیان اڑن طشتریاں اڑتی دیکھی گئی ہیں جنہیں امریکی میڈیا والے خلائی مخلوق کی سواری کہتے ہیں۔ امریکا کا یہودی میڈیا ان کے متعلق سامنے آنے والے حقائق چھپاتا رہتا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کی جراءت کی اور ان حقائق کو منظر عام پر لائے تو انہیں قتل کردیا گیا۔ جیسے ڈاکٹر موریس جیسوپ اور ڈاکٹر جیمس ای میکڈونلڈ کو صرف اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ یہ دونوں اڑن طشتریوں کو کھوجتے ہوئے اصل حقائق جان گئے تھے۔
4۔ دونوں جگہوں کو خواص و عوام قدیم زمانے سے شیطان سے منسوب کرتے ہیں اور یہاں ایسی قوتوں کی کارستانیوں کے قائل ہیں جو انسانیت کی خیر خواہ نہیں۔ لیکن ان کے گرد اسرار کے پردے آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ وہ میڈیا جو بال کی کھال اور کھال کی کھال اتاردیتا ہے وہ اس راز کو کیوں چھپا رہا ہے ؟؟
اب ان باتوں کی حقیقت سوائے مخبر صادق ﷺ کے سوا کس سے پوچھی جائے ؟؟
آئیے اب ان کی زبانی ان باتوں کی حقیقت جانتے ہیں جنھیں اس وقت کے کفار و مشرکین بھی صادق الامین کہا کرتے تھے۔
ایک دن حضور ﷺ نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ۔۔ تمیم داری پہلے عیسائی تھا ۔ وہ آیا ۔ اس نے بیعت کی اور اسلام میں داخل ہوگیا۔ اس نے مجھے ایسا واقعہ سنایا جو ان باتوں سے تعلق رکھتا ہے جو میں تمھیں دجال کے بارے میں بتایا کرتا تھا۔۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ لخم اور جزام قبیلہ کے تیس آدمیوں کے ہمراہ سمندر کے سفر پر بحری جہاز میں روانہ ہوا۔ سمندر کی لہریں (طوفان کے سبب) انھیں مہینہ بھر تک ادھر اُدھر دھکیلتی رہیں۔ یہاں تک کہ وہ ایک جزیرے میں پہنچ گئے۔ اس وقت سورج غروب ہورہا تھا۔ وہ ایک چھوٹی کشی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے۔ جب وہ جزیرے میں داخل ہوئے تو ان کو ایک جانور ملا جس کے جسم پر بہت سے بال تھے۔ بالوں کی کثرت کی وجہ سے انہیں اس کے آگے پیچھے کا پتہ نہیں چلا رہا تھا۔
انہوں نے کہا: تیرا ناس ہو تو کیا چیز ہے ؟
اُس بالوں والے جانور نے کہا: میں جساسہ ہوں۔
انہوں نے پوچھا: یہ جساسہ کیا چیز ہے ؟
جواب ملا: اے لوگو! خانقاہ (مراد گھر) میں موجود اس آدمی کی طرف جاؤ۔ وہ تمہاری خبریں سننے کا بڑے تجسس سے انتظار کررہا ہے۔ انہیں خوف ہوا کہ کہیں یہ جانور شیطان نہ ہو اور کہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ پھر ہم تیزی سے چلے اور خانقاہ میں داخل ہوگئے۔ وہاں ہم نے بھاری بھر کم قد کاٹھ کا ایک آدمی دیکھا جس کے گھٹنوں سے ٹخنوں تک بندھی ایک لوہے کی زنجیر تھی اور اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔
ہم نے پوچھا: تیرا ناس ہو تو کیا چیز ہے ؟
اس نے کہا: میرا پتہ تمہیں جلد چل جائے گا۔ یہ بتاؤ کہ تم کون ہو ؟
ہم نے کہا: ہم عرب سے ہیں (پھر ہم نے سارے سفر اور طوفان اور جساسہ کے بارے میں بتایا کہ اس نے ہمیں تیری طرف آنے کا کہا)۔
اس نے کہا: مجھے بیسان کے نخلستان (باغ) کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس باغ کے درختوں پر پھل آتے ہیں یا نہیں؟
ہم نے کہا: ہاں۔۔ پھل آتے ہیں۔
اس نے کہا: مجھے طبریہ کی جھیل کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: کیا اس میں پانی موجود ہے ؟
ہم نے کہا: ہاں اس میں بہت پانی ہے۔
وہ بولا: اس کا پانی بہت جلد ختم ہو جائے گا۔۔ پھر اس نے کہا: مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: کیا اس میں پانی ہے اور کیا لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں ؟
ہم نے کہا: ہاں اس میں بہت پانی ہے اور لوگ اس سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔
اس نے پوچھا: مجھے محمد(ﷺ) کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ وہ مکہ سے نکل کر یثرب (مدینہ) آ گئے ہیں۔
اس نے پوچھا: کہ کیا عربوں نے اس کے ساتھ جنگ کی ؟
ہم نے کہا: ہاں۔
اُس نے پوچھا: کہ اس (حضرت محمد ﷺ) نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟
ہم نے کہا: کہ وہ اردگر د کے عربوں پر غالب آچکے ہیں اور انھوں نے اُن کی اطاعت قبول کرلی ہے۔
اس پر اُس نے کہا: کیا واقعی ایسا ہوچکا ہے ؟
ہم نے کہا: ہاں۔۔
پھر اُس نے کہا: ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اس کی اطاعت قبول کرلیں۔۔
اب میں تمھیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں دجال ہوں۔ مجھے عنقریب خروج کی اجازت مل جائے گی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ
1۔ دجال پیدا ہوچکا تھا اور اب وہ اپنی رہائی کا منتظر ہے۔
2۔ اس کی رہنے کی جگہ ایک بے آباد جزیرہ ہے۔
3۔ اس کے کارندے اسے لمحہ بہ لمحہ دنیا اور انسانوں سے آگاہ کرتے ہیں۔
4۔ اس کو غیر معمولی طاقتیں دی جائیں گی۔
اب سوال یہ ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل کو ہی اس کا اصل مقام کہا جائے ، جہاں پر کوئی جانے کی جراءت کرے تو اس کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ؟؟
(یہ واقعہ سنانے کے بعد) حضور ﷺ نے اپنا عصاء مبارک منبر پر مار کر فرمایا، یہ ہے طیبہ۔ یہ ہے طیبہ (یعنی مدینہ منورہ) میں تم کو یہی بتایا کرتا تھا۔ جان لو کہ دجال نہ شام کے سمندر میں ہے اور نہ ہی یمن کے سمندر میں۔ نہیں وہ مشرق میں ہے۔۔ (اور حضور ﷺ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ فرمایا)
(صحیح مسلم: حدیث 7208)
اب جزیرۃ العرب سے مشرق کی جانب دیکھا جائے تو دو جگہیں ہی ایسی ہیں جنہیں مغرب کے عیسائی بھی شیطانی سمندر، شیطانی جزیرے یا جہنم کا دروازہ مانتے ہیں۔۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں کا آخری سرا امریکہ سے جا ملتا ہے۔
مشرق بعید میں بحر الکاہل کے غیر آباد اور ویران جزائر آتے ہیں۔ ان کے اردگرد کے خوفناک پانیوں کا نام ہی شیطانی سمندر (Devil Sea) رکھ دیا گیا ہے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہ شیطانی سمندر کا نام مغرب اور خصوصاً عیسائیوں نے کیوں دیا ؟؟ اگر مسلمان یہ نام رکھتے تو بات سمجھ میں آنا آسان بھی تھی۔۔ خیر یہ ابھی ہمارا موضوع نہیں۔۔ فی الحال ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی برمودا ٹرائی اینگل کا تعلق دجال سے ہے ؟؟
حدیث کے الفاظ دوبارہ پڑھئے۔۔ (دجال مشرق میں ہے) ۔۔ زمین چونکہ گول ہے اس لئے اگر مبہم طور پر ہم مشرق کی طرف اشارہ کریں تو وہ اس کی گولائی کی وجہ سے مغرب (بحر الکاہل) تک پہنچے گا۔۔ مگر یہ ایک مبہم تاویل ہے۔ اس سے آگے مضبوط تاویل مصری محقق عیسی داؤد نے اپنی کتاب مثلث برمودا میں کی ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ پہلے دجال بحر الکاہل کے ان بے آباد اور ویران جزائر میں تھا اور حضور ﷺ کے وصال تک وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ مگر ختم المرسلین ﷺ کے وصال کے بعد اسکی بیڑیاں ٹوٹ گئیں اور وہ آزاد ہوگیا ۔۔ مگر اسے خروج کی اجازت نہیں تھی لہٰذا وہ شیطانی سمندر (Devil Sea) سے شیطانی تکون (bermuda Triangle) تک رابطے میں ہے۔ جس کے قریب شیطانی تہذیب پروان چڑھ کر نکتہ عروج کو پہنچنے ہی والی ہے۔
دوستو! ویسے تو قرب قیامت میں دجال کے منظر عام پر آ جانے پر کافی نشانیاں ہیں جو ان شاءاللہ آپ ہمارے اہم ترین مضمون سیریز (دجال کون ہوگا) کے اگلے حصوں میں پڑھ سکیں گے۔۔ لیکن جہاں تک صحیح مسلم کی اس حدیث میں موجود (دجال کے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے کیے جانے والے تین اہم اور بنیادی سوالات کا تعلق ہے) تو وہ سوالات دجال نے اسی لیے کیے تھے کیونکہ اسے پتہ تھا جب یہ تین نشانیاں بھی پوری ہو جائیں گی تو اسے دنیا کے سامنے آنے کی (یعنی خروج کی) مکمل اجازت مل جائیگی۔۔
سوال نمبر ایک میں بیسان کے نخلستان کا پوچھا گیا تھا اور اس نخلستان پر موجود درختوں کے پھلوں (کھجوروں) کا ذکر کیا گیا تھا۔۔ بیسان دراصل فلسطین کا علاقہ ہے جہاں دجالی ریاست اسرائیل کا قبضہ ہے۔۔ اور اب وہاں کوئی پھل پیدا نہیں ہوتا اور یوں دجال کے سامنے آنے کی یہ بہت اہم نشانی اور علامت پوری ہو چکی ہے۔
سوال نمبر دو میں طبریہ کی جھیل کا پوچھا گیا تھا۔۔ جہاں تک بات ہے بحیرہ طبریہ کی تو اس پر بھی اسرائیل کا ہی قبضہ ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا پانی بھی بہت تیزی سے خشک ہوتا جا رہا ہے۔۔ جس طرح پاکستان میں مشہور ترین دریائوں کا پانی انڈیا کی دشمنی اور چالاکی سے سوکھ رہا ہے اور کم ہو رہا ہے،، طبریہ کا پانی بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔۔ بیشک آپ انٹرنیٹ پر سرچ کر لیں اور موجودہ حالات کی روشنی میں دیکھ لیں۔۔ یہ بات واضح ہو جائے گی کہ دجال کے دوسرے سوال والی نشانی بھی مکمل ہو چکی ہے۔
سوال نمبر تین میں زغر کے چشمہ کا پوچھا گیا تھا۔۔ زغر حضرت لوط علیہ السلام کی صاحبزادی کا نام ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی دو صاحبزادیاں تھیں۔ ربہ اور زغر ۔۔ بڑی صاحبزادی (ربہ) کو وفات کے بعد جہاں دفن کیا گیا تو قریب ہی ایک چشمہ تھا جو انکے نام سے منسوب ہو کر مشہور ہوا۔۔ اسی طرح چھوٹی صاحبزادی (زغر) کی وفات کے بعد انکی تدفین بھی ایک چشمہ کے قریب ہوئی اور وہ چشمہ زغر کے چشمے کے نام سے مشہور ہو گیا۔۔ دجال کی تفتیش اور تجسس کے عین مطابق یہ تیسری جگہ بھی دجالی ریاست اسرائیل میں ہی واقع ہے۔۔ اور اس کا پانی بھی پوری طرح خشک ہوتے ہی دجال کو نکلنے کی اجازت مل جائے گی۔
ویسے بھی ایک دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دجال کسی بات پر غضبناک (انتہائی غصے میں) نکلے گا اور منظر عام پر آ جائے گا۔۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ وقت اور مستقبل قریب میں جہاں یہ پانی خشک ہوتا رہے گا تو اللہ پاک کی طرف سے کچھ ایسے اسباب اور حالات و واقعات ضرور رونما ہونگے جس پر دجال کو سخت تشویش اور غصہ ہوگا اور وہ خروج کر جائے گا اور سامنے آ جائے گا۔۔ اب وہ ایسی کیا بات یا باتیں ہونگی،، واقعات ہونگے،، یہ سب غیب کی باتیں ہیں لیکن اتنا ضرور سمجھ آتا ہے کہ وہ دجالی ریاست اسرائیل،، دجالی چمچوں یعنی صیہونیوں اور یہودیوں ،، دجال پرست عیسائیوں ،، دیگر غیر مسلم مذاہب کے دجالی چیلوں اور نام نہاد مسلمانوں کے خلاف ہی کچھ ہوگا تبھی وہ اتنا غصے میں آ جائے گا۔۔ اللہ پاک اس عظیم ترین فتنے سے ہمیں اپنی امان میں رکھیں۔۔ واقعی بہت خوش نصیب ہونگے وہ مسلمان جو موجودہ حالات میں ایمان کی ہی حالت میں دنیا سے جائیں گے۔۔ نہیں تو فتنوں کے دور میں ایمان سلامت رہنا کیا آسان ہے ؟؟؟ اللہ پاک ہمیں صحیح راہ پر قائم رکھیں اور خاتمہ بالخیر فرمائیں۔۔ آمین
آپ نے برمودا ٹرائی اینگل کے حقائق جانے اور دجال کے متعلق پڑھا کہ صحیح احادیث کی روشنی میں وہ کون سی علامات ہیں جو دجال کے ظاہر ہونے سے پہلے رونما ہوں گی۔۔ ان میں سے بہت سی ظاہر ہوچکی ہیں۔ اگر ہوش مندی سے دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب دجال کے خروج کا زمانہ زیادہ دور نہیں۔۔ اس لئے اس کے فتنے سے بچنے کے لئے ہمیں اپنی ایمانی قوت کو حاصل کرنا ہوگا۔ یہی وہ واحد حل ہے جس کے ذریعے باطل اور اہل باطل کو ہر محاذ پر شکست دی جاسکتی ہے۔
دجالی قوت مادیت پرستی کی وجہ سے ہوگی۔ اور کافر مادیت پرستی ہی کو تمام دنیا میں پھیلا رہے ہیں۔۔ جبکہ دجال کی اس مادیت پرستی کے مقابلے میں اہل ایمان کو روحانی ترقی حاصل ہوگی۔ اسی قوت کے ذریعے مادیت پرستوں کا زعم باطل ملیا میٹ ہوتے آج کے دور میں بھی ہمیں اللہ پاک نے دکھا دیا۔۔ اور 47 ملکوں کی فوج ایک طرف اور نہتے مجاہد دوسری طرف۔ پھر بھی کافر ان کا بال بیکا نہ کرسکے۔۔ یہ روحانی ترقی کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے معمولات کی حفاظت کریں اور اپنے اوقات میں سے کچھ وقت خالصتاً اللہ پاک کی عبادت کے لئے صرف کریں۔۔ اللہ پاک ہم سب کو دجال کے فتنے سے محفوظ رکھیں اور ہمیں ہمارے ایمان کو مضبوط کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں۔۔ آمین یا رب العالمین۔


Registration for PM’s Corona Relief Tigers to begin on March 31, Today 

وزیر اعظم کی کورونا ریلیف ٹائیگرز کے لئے اندراج  31  ا مارچ ، آج سے شروع ہو گ               

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے خصوصی رضاکار فورس کے تشکیل کے بارے میں اعلان کے بعد ، وزارت امور یوتھ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ‘کورونا ریلیف ٹائیگرز’ یوتھ ٹیم کے لئے رجسٹریشن 31 مارچ سے شروع ہوگی۔

وزارت کے مطابق شہری ڈیجیٹل فارم پُر کرکے وزیر اعظم آفس پورٹل کے ذریعے فورس کے لئے رضاکارانہ طور پر کام کرسکیں گے۔

"خواہش مند افراد کو فورس کے لئے اندراج کے ل their اپنا نام ، عمر ، فون نمبر اور یونین کونسل فراہم کرنا ہوگی۔ صرف 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد ہی اس فورس کے لئے اندراج کر سکتے ہیں۔ وزارت نے مزید کہا کہ فورس کے لئے رجسٹریشن 10 اپریل کو ختم ہوجائے گی۔

وزارت نے مزید کہا کہ ہر یونین کونسل کے رضاکاروں کو معاشرے کے انتہائی کمزور طبقات کے گھروں تک کھانا پہنچانے کا کام سونپا جائے گا۔

"کسی بھی پارٹی کے ممبر رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کرسکتے ہیں۔ یہ رضاکار ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت کام کریں گے۔ لاک ڈاؤن کی صورت میں ، فورس کھانا تقسیم کرے گی اور ان ذخیرہ اندوزوں کی بھی شناخت کرے گی۔

وزارت نے مزید بتایا کہ رضاکار قیدیوں کے مراکز میں مشتبہ مقدمات کی بھی نگرانی کریں گے۔

ایک دن پہلے ہی ، وزیر اعظم عمران خان نے یوتھ فورس کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے پاکستان میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ کی قیادت ہوگی۔

وزیر اعظم نے میڈیا کو خصوصی بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ "کورونا امدادی شیروں کے لئے بھرتی باضابطہ طور پر 31 مارچ سے شروع ہوگی۔ ہم تمام رضاکاروں سے مطالبہ کر رہے ہیں۔"

یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ یہ وائرس پوری دنیا میں ڈرامائی طور پر پھیل گیا ہے ، ریاستہائے متحدہ امریکہ نئے مرکز کا مرکز بن کر ابھرا ہے ، وزیر اعظم نے کہا ، "کوئی بھی آج یہ نہیں کہہ سکتا کہ صورتحال دو ہفتوں کے نیچے کیا ہوگی۔"

انہوں نے کہا ، "اسی وجہ سے کیسوں کی تعداد میں اضافے کی صورت میں ہمیں بدترین صورتحال (پاکستان میں) کے لئے تیار رہنا ہوگا۔"

وزیر اعظم عمران نے کہا ، "یہ بات اہم ہے کہ جب انھوں نے [دوسرے ممالک] لاک ڈاؤن نافذ کیا تو لوگوں کے گھروں تک کھانا پہنچایا گیا۔" “کورونا ریلیف ٹائیگرز کو پورے پاکستان میں بھیجا جائے گا۔ جہاں معاملات میں اضافہ ہوتا ہے وہاں ہم نقشہ تیار کریں گے اور ان شیروں کو ضروری سامان کی فراہمی کے لئے ان علاقوں میں بھیجا جائے گا۔

Registration for PM’s Corona Relief Tigers Click on Link  


  وزیر اعظم کی کورونا ریلیف ٹائیگرز کے لئے اندراج لنک پر کلک کریں

وزیر اعظم کی کورونا ریلیف ٹائیگرز کے لئے اندراج 31 مارچ ، آج سے شروع ہوگا

Registration for PM’s Corona Relief Tigers to begin on March 31, Today 

وزیر اعظم کی کورونا ریلیف ٹائیگرز کے لئے اندراج  31  ا مارچ ، آج سے شروع ہو گ               

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے خصوصی رضاکار فورس کے تشکیل کے بارے میں اعلان کے بعد ، وزارت امور یوتھ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ‘کورونا ریلیف ٹائیگرز’ یوتھ ٹیم کے لئے رجسٹریشن 31 مارچ سے شروع ہوگی۔

وزارت کے مطابق شہری ڈیجیٹل فارم پُر کرکے وزیر اعظم آفس پورٹل کے ذریعے فورس کے لئے رضاکارانہ طور پر کام کرسکیں گے۔

"خواہش مند افراد کو فورس کے لئے اندراج کے ل their اپنا نام ، عمر ، فون نمبر اور یونین کونسل فراہم کرنا ہوگی۔ صرف 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد ہی اس فورس کے لئے اندراج کر سکتے ہیں۔ وزارت نے مزید کہا کہ فورس کے لئے رجسٹریشن 10 اپریل کو ختم ہوجائے گی۔

وزارت نے مزید کہا کہ ہر یونین کونسل کے رضاکاروں کو معاشرے کے انتہائی کمزور طبقات کے گھروں تک کھانا پہنچانے کا کام سونپا جائے گا۔

"کسی بھی پارٹی کے ممبر رضاکارانہ طور پر رجسٹریشن کرسکتے ہیں۔ یہ رضاکار ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت کام کریں گے۔ لاک ڈاؤن کی صورت میں ، فورس کھانا تقسیم کرے گی اور ان ذخیرہ اندوزوں کی بھی شناخت کرے گی۔

وزارت نے مزید بتایا کہ رضاکار قیدیوں کے مراکز میں مشتبہ مقدمات کی بھی نگرانی کریں گے۔

ایک دن پہلے ہی ، وزیر اعظم عمران خان نے یوتھ فورس کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے پاکستان میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ کی قیادت ہوگی۔

وزیر اعظم نے میڈیا کو خصوصی بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ "کورونا امدادی شیروں کے لئے بھرتی باضابطہ طور پر 31 مارچ سے شروع ہوگی۔ ہم تمام رضاکاروں سے مطالبہ کر رہے ہیں۔"

یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ یہ وائرس پوری دنیا میں ڈرامائی طور پر پھیل گیا ہے ، ریاستہائے متحدہ امریکہ نئے مرکز کا مرکز بن کر ابھرا ہے ، وزیر اعظم نے کہا ، "کوئی بھی آج یہ نہیں کہہ سکتا کہ صورتحال دو ہفتوں کے نیچے کیا ہوگی۔"

انہوں نے کہا ، "اسی وجہ سے کیسوں کی تعداد میں اضافے کی صورت میں ہمیں بدترین صورتحال (پاکستان میں) کے لئے تیار رہنا ہوگا۔"

وزیر اعظم عمران نے کہا ، "یہ بات اہم ہے کہ جب انھوں نے [دوسرے ممالک] لاک ڈاؤن نافذ کیا تو لوگوں کے گھروں تک کھانا پہنچایا گیا۔" “کورونا ریلیف ٹائیگرز کو پورے پاکستان میں بھیجا جائے گا۔ جہاں معاملات میں اضافہ ہوتا ہے وہاں ہم نقشہ تیار کریں گے اور ان شیروں کو ضروری سامان کی فراہمی کے لئے ان علاقوں میں بھیجا جائے گا۔

Registration for PM’s Corona Relief Tigers Click on Link  


  وزیر اعظم کی کورونا ریلیف ٹائیگرز کے لئے اندراج لنک پر کلک کریں

Coronavirus disease (COVID-19) is an infectious disease caused by a new virus.
The disease causes respiratory illness (like the flu) with symptoms such as a cough, fever, and in more severe cases, difficulty breathing. You can protect yourself by washing your hands frequently, avoiding touching your face, and avoiding close contact (1 meter or 3 feet) with people who are unwell.

HOW IT SPREADS
Coronavirus disease spreads primarily through contact with an infected person when they cough or sneeze. It also spreads when a person touches a surface or object that has the virus on it, then touches their eyes, nose, or mouth. 
watch full video by click on this link https://youtu.be/FLtFUayROik

Coronavirus disease (COVID-19) is an infectious disease caused by a new virus.
The disease causes respiratory illness (like the flu) with symptoms such as a cough, fever, and in more severe cases, difficulty breathing. You can protect yourself by washing your hands frequently, avoiding touching your face, and avoiding close contact (1 meter or 3 feet) with people who are unwell.

HOW IT SPREADS
Coronavirus disease spreads primarily through contact with an infected person when they cough or sneeze. It also spreads when a person touches a surface or object that has the virus on it, then touches their eyes, nose, or mouth. 
watch full video by click on this link https://youtu.be/FLtFUayROik
Online Registration for Lady Cadet Course Starts from Today and last date is 3rd January 2020


For Details read below posts :






For apply online click registration form





Online Registration for Lady Cadet Course Starts from Today and last date is 3rd January 2020


For Details read below posts :






For apply online click registration form





Class 9th

[Class 9th][pvid]